کوئٹہ (ویب نیوز) ــ سیکیورٹی وجوہات کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلنے والی مسافر بس سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خاران، پنجگور، واشک، بسیمہ، تربت، گوادر اور دیگر علاقوں سے کوئٹہ اور کراچی آنے جانے والی متعدد بسیں 8 اگست سے 16 اگست تک سڑکوں پر نہیں چلیں گی، جبکہ کوئٹہ سے پنجگور، گوادر اور تربت جانے والے تمام روٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ ذرائع کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے طویل روٹس پر مسافر گاڑیاں چلانے کے بجائے اپنی سروسز عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بس سروس کی بندش سے خاران، پنجگور، واشک، بسیمہ اور ملحقہ علاقوں کے ہزاروں رہائشی متاثر ہوں گے، کیونکہ وہ علاج، تعلیم، کاروبار، ملازمت، سرکاری امور اور دیگر ضروری کاموں کے لیے کوئٹہ اور کراچی کا سفر کرتے ہیں۔ بالخصوص وہ مریض اور ان کے اہل خانہ جو کوئٹہ اور کراچی کے بڑے اسپتالوں میں علاج کے لیے سفر کرتے ہیں، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ بس سروس اچانک معطل ہونے کے باعث مسافروں کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ رہے ہیں، تاہم محدود متبادل ٹرانسپورٹ کے باعث سفر دشوار ہونے اور اخراجات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی بندش صرف خاران سے کوئٹہ اور کراچی جانے والی بسوں تک محدود نہیں بلکہ کراچی سے بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں کی جانب جانے والی متعدد بسیں بھی معطل کر دی گئی ہیں اور تربت، گوادر، پنجگور، خاران اور بسیمہ کے روٹس پر مسافر ٹرانسپورٹ کی بندش کی اطلاعات ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسافروں، ڈرائیوروں، کنڈکٹرز اور ٹرانسپورٹ عملے کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے کیونکہ طویل روٹس حساس علاقوں اور اہم شاہراہوں سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر انتہائی ضروری ہو تو روانگی سے قبل متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنی سے روٹ اور بس سروس کی دستیابی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ذرائع کے مطابق بس سروس کی موجودہ معطلی کا شیڈول 8 اگست سے 16 اگست تک ہے، تاہم اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوتی ہے یا متعلقہ اداروں کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی جاتی ہیں تو ٹرانسپورٹ سروس کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
