کوئٹہ(ویب نیوز)کوئٹہ میں کینسر کے مریضوں کے لیے اہم طبی مرکز سینار کینسر ہسپتال میں ہیلتھ کارڈ پروگرام کی ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث علاج کا عمل شدید متاثر ہوا ہے اور ذرائع کے مطابق 7 ہزار سے زائد مریض مشکلات سے دوچار ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت ہسپتال کو واجب الادا رقوم بروقت ادا نہ کیے جانے کے باعث ہسپتال شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں نئے مریضوں کے داخلے اور علاج کو محدود جبکہ بعض صورتوں میں عارضی طور پر مؤخر کردیا گیا ہے، جبکہ زیر علاج مریض بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ کینسر کے مہنگے علاج، ادویات، سفر اور دیگر اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت ان کے لیے امید کی ایک اہم کرن تھی، تاہم ادائیگیوں کے بحران نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ یو این اے کے مطابق سینار کینسر ہسپتال میں بڑی تعداد میں مریض ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت علاج حاصل کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ہسپتال کے علاج کے اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر نے ہسپتال کے مالی اور طبی امور پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کینسر کے علاج کو معمول کی صحت کی سہولت سمجھنے کے بجائے ایک ہنگامی انسانی ضرورت کے طور پر لیا جائے اور ہسپتال کے تمام بقایا جات فوری طور پر ادا کیے جائیں تاکہ کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، سرجری، ادویات اور دیگر طبی سہولیات بلا تعطل جاری رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد مریض دور دراز اضلاع سے کوئٹہ آتے ہیں اور سفر، رہائش اور خوراک کے اضافی اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں، لہٰذا ہسپتال پہنچنے کے بعد علاج میں تاخیر ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور 7 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج دوبارہ بلا رکاوٹ جاری کرایا جائے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان ایک وسیع صوبہ ہے اور دور دراز علاقوں سے پیچیدہ امراض کے مریض علاج کے لیے کوئٹہ آتے ہیں، جبکہ کینسر کے علاج کے لیے جدید مشینری، ماہر ڈاکٹرز، تشخیصی سہولیات اور مہنگی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے اور صوبے میں یہ سہولیات پہلے ہی محدود ہیں۔ مریضوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت نہ صرف موجودہ بقایا جات کی ادائیگی کا مسئلہ حل کرے بلکہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت ہسپتالوں کو ادائیگیوں کے لیے ایسا مؤثر نظام وضع کرے جس کے باعث مستقبل میں مالی مشکلات کی وجہ سے مریضوں کا علاج متاثر نہ ہو۔
