تازہ ترین ۹ اگست ۲۰۲۶

سکیورٹی صورتحال: خاران سے کوئٹہ اور کراچی جانے والی مسافر ٹرانسپورٹ 16 اگست تک معطل

کوئٹہ(ویب نیوز)سکیورٹی وجوہات کے باعث خاران سے کوئٹہ، کراچی اور بلوچستان کے مختلف اضلاع کے درمیان مسافر ٹرانسپورٹ سروسز 16 اگست تک عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں، جس کے باعث خاران، پنجگور، تربت، گوادر، واشک، بسیمہ اور دیگر علاقوں کے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے 8 سے 16 اگست تک بین الاضلاعی بس سروسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت خاران سے کوئٹہ اور کراچی جانے والی بسیں بھی آمدورفت نہیں کریں گی جبکہ بلوچستان کے جنوبی اور مغربی علاقوں سے کراچی جانے والی متعدد مسافر گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی بند رہے گی۔ ٹرانسپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مسافروں، ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور ٹرانسپورٹ عملے کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ طویل روٹس حساس علاقوں اور شاہراہوں سے گزرتے ہیں۔ سروسز کی معطلی کے باعث خاران، پنجگور، واشک، بسیمہ اور دیگر علاقوں سے کوئٹہ اور کراچی جانے والے مریضوں، طلبہ، سرکاری ملازمین، تاجروں اور روزگار کے سلسلے میں سفر کرنے والے افراد کو مشکلات پیش آسکتی ہیں، بالخصوص ان مریضوں اور ان کے لواحقین کو جو علاج کے لیے کوئٹہ یا کراچی کے بڑے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ یو این اے کے مطابق خاران اور گردونواح میں طویل فاصلے کی مسافر ٹرانسپورٹ کا زیادہ انحصار بس سروسز پر ہے اور اچانک سروسز معطل ہونے سے مسافروں کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ محدود متبادل ٹرانسپورٹ سہولیات کے باعث سفر مزید مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے تربت، گوادر، پنجگور، خاران، بسیمہ اور خضدار جانے والی متعدد مسافر بس سروسز بھی 8 سے 16 اگست تک معطل رہنے کا امکان ہے، جس سے بلوچستان اور سندھ کے درمیان مسافروں کی آمدورفت متاثر ہوگی۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور جب تک سکیورٹی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، طویل روٹس پر بسیں نہیں چلائی جائیں گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر شروع کرنے سے قبل متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے راستے اور سروس کی دستیابی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے یا متعلقہ اداروں کی نئی ہدایات کی صورت میں ٹرانسپورٹ سروسز بحال کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔