تازہ ترین ۵ اگست ۲۰۲۶

روزنامہ نوی ژوند پشتو کوئٹہ۔ سید انورشاہ کا 37 سالہ صحافتی جدوجہد، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خدمت کا سفر (6 اگست 1989ء تا 6 اگست 2026ء)

روزنامہ نوی ژوند پشتو کوئٹہ۔

سید انورشاہ کا 37 سالہ صحافتی جدوجہد، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خدمت کا سفر

(6 اگست 1989ء تا 6 اگست 2026ء)

تحریر: طارق خان

6 اگست 1989ء بلوچستان کی پشتو صحافت کی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے۔ اسی روز روزنامہ نوی ژوند پشتو کوئٹہ نے اپنی اشاعت کا آغاز کیا۔ اس وقت صوبے میں پشتو صحافت محدود وسائل، روایتی طباعت اور انتہائی دشوار حالات میں اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ ایسے ماحول میں روزنامہ نوی ژوند نے صرف ایک اخبار کی حیثیت سے نہیں بلکہ عوامی شعور، آئینی بالادستی، جمہوری اقدار، قومی یکجہتی، پشتو زبان و ادب اور بلوچستان کے عوامی مسائل کی آواز بننے کا عزم کیا۔

ابتدا ہی سے ادارے نے یہ یقین رکھا کہ صحافت صرف خبر کی ترسیل نہیں بلکہ ایک قومی امانت، فکری ذمہ داری اور آئندہ نسلوں کے لیے تاریخ محفوظ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اسی سوچ نے روزنامہ نوی ژوند کو بلوچستان کے ممتاز اخبارات میں نمایاں مقام عطا کیا۔

جدید کمپیوٹرائزیشن کی بنیاد

1992ء میں جب پاکستان میں کمپیوٹرائزڈ صحافت ابھی ابتدائی مراحل میں تھی اور پشتو زبان کے لیے نہ یونی کوڈ موجود تھا اور نہ ہی عام دستیاب سافٹ ویئر، اس وقت روزنامہ نوی ژوند نے جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔

اس زمانے میں پشتو کمپوزنگ کے لیے خصوصی پروگرام اور آلات دستیاب تھے جن کی قیمت ایک علاقائی اخبار کے لیے انتہائی زیادہ تھی۔ ادارے نے تقریباً دو لاکھ روپے کی خطیر سرمایہ کاری کرکے خصوصی پشتو سافٹ ویئر، 386 (تھری ایٹ سکس) کمپیوٹر اور پرنٹر حاصل کیے۔ اس دور میں یہ سرمایہ کاری بلوچستان میں علاقائی صحافت کے لیے ایک غیر معمولی قدم تھی، جس نے پشتو کمپیوٹرائزیشن کی نئی راہیں ہموار کیں۔

بلوچستان کی ابتدائی ویب صحافت

روزنامہ نوی ژوند نے صرف کمپیوٹرائزیشن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ڈیجیٹل صحافت کی اہمیت کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ 1998ء سے 2002ء تک اخبار کی ویب سائٹ فعال رہی، جب بلوچستان میں انٹرنیٹ ابھی اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ ادارے کے مطابق اس زمانے میں صوبے میں انٹرنیٹ کنکشن رکھنے والے ادارے اور صارفین نہایت محدود تھے اور روزنامہ نوی ژوند ان اولین اخبارات میں شامل تھا جنہوں نے اپنی اشاعت کو عالمی سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے متعارف کرایا۔

بعد ازاں مالی مشکلات، سرکاری اشتہارات کی بندش اور محدود وسائل کے باعث ویب سائٹ کی اشاعت عارضی طور پر بند کرنا پڑی، تاہم آج دوبارہ جدید انداز میں اس سفر کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

تعلیم یافتہ صحافت کی روایت

روزنامہ نوی ژوند کا ایک منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ اس کے مالک، پبلشر اور چیف ایڈیٹر سید انورشاہ نے ابلاغِ عامہ (ایم اے ماس کمیونیکیشن) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اسی پیشہ ورانہ پس منظر نے ادارے کو تحقیق، تجزیہ، اداریہ نویسی اور صحافتی اخلاقیات میں ایک الگ شناخت دی۔۔
ریکارڈ کے تحفظ کی جدوجہد

کسی بھی اخبار کا اصل سرمایہ اس کا محفوظ ریکارڈ ہوتا ہے، مگر روزنامہ نوی ژوند کو اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دفتر میں متعدد بار چوری کی وارداتیں ہوئیں جن میں کمپیوٹر، قیمتی آلات اور کئی برسوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ ضائع ہو گیا۔ ایک موقع پر اخبار کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بھی چوری ہو گیا، جس سے پشتو صحافت کا ایک اہم تاریخی سرمایہ متاثر ہوا۔

ادارے کا مؤقف ہے کہ اگرچہ روزانہ متعدد نقول سرکاری ریکارڈ کے لیے متعلقہ اداروں کو فراہم کی جاتی تھیں، تاہم پشتو، بلوچی اور براہوی اخبارات کے تاریخی ریکارڈ کو مناسب طریقے سے محفوظ نہیں رکھا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں بلکہ بلوچستان کی لسانی، ثقافتی اور صحافتی تاریخ کے لیے بھی ایک بڑا خسارہ ہے۔

ادارے کی معلومات کے مطابق ماضی میں ایک غیر ملکی محقق بلوچستان کے اخبارات کا ریکارڈ جمع کرکے اسے مائیکروفلم کی صورت میں محفوظ کرتا اور تحقیقی مقاصد کے لیے امریکہ بھجواتا تھا، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے اس تاریخی ذخیرے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں۔

اصولی صحافت کی قیمت

روزنامہ نوی ژوند کی سینتیس سالہ تاریخ صرف صحافتی خدمات کی داستان نہیں بلکہ مسلسل آزمائشوں کی بھی تاریخ ہے۔ ادارے کے مطابق اس عرصے کے دوران متعدد مواقع پر وفاقی اور صوبائی سرکاری اشتہارات کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ چیف ایڈیٹر سید انورشاہ نے کسی بھی قسم کی غیر رسمی یا زبانی پریس ایڈوائس کو صحافتی اصولوں پر فوقیت نہیں دی اور ادارتی آزادی پر سمجھوتہ کرنے سے گریز کیا۔

روزنامہ نوی ژوند نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ صحافت کا اولین فرض عوام کے حقائق جاننے کے حق کا تحفظ ہے، نہ کہ طاقتور حلقوں کی خواہشات کی ترجمانی۔ اسی سوچ کے تحت جنوبی پشتونخوا کے عوام کے سیاسی، سماجی، تعلیمی، ثقافتی اور معاشی مسائل کو بغیر کسی مصلحت کے اجاگر کیا گیا، خواہ اس کی قیمت مالی مشکلات، اشتہارات کی بندش یا دیگر دباؤ کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑی۔

مشکلات کے باوجود استقامت

گزشتہ سینتیس برسوں میں روزنامہ نوی ژوند نے مالی بحران، اشتہارات کی بندش، محدود وسائل، تکنیکی مشکلات اور دیگر چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن عوامی مسائل، آئینی حکمرانی، جمہوریت، آزادیٔ صحافت، پشتو زبان، بلوچستان کے حقوق اور قومی مفاد پر مبنی صحافت کا سفر کبھی نہیں روکا۔

مستقبل کا عزم

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن صحافت کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، روزنامہ نوی ژوند بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو مزید مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ ادارہ صرف ایک اخبار نہیں بلکہ بلوچستان میں پشتو صحافت، جدید کمپیوٹرائزیشن، ڈیجیٹل میڈیا، اصولی صحافت اور عوامی خدمت کی ایک زندہ تاریخ ہے۔

ادارہ روزنامہ نوی ژوند کی اپیل

بلوچستان حکومت، جامعات، قومی لائبریری، محکمہ تعلقاتِ عامہ اور متعلقہ تحقیقی اداروں سے اپیل ہے کہ بلوچستان کی تمام زبانوں کے اخبارات کے تاریخی ریکارڈ کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کی فوری ڈیجیٹل آرکائیونگ، مائیکروفلم سازی اور مستقل تحفظ کا انتظام کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی صحافتی تاریخ سے محروم نہ رہیں۔

6 اگست 1989ء سے 6 اگست 2026ء تک کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم، دیانت، پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری اور عوامی خدمت کا جذبہ موجود ہو تو محدود وسائل بھی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ روزنامہ نوی ژوند نے ہمیشہ اصولی صحافت کو ترجیح دی ہے اور آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔