تازہ ترین ۲۸ جولائی ۲۰۲۶

ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع اولین ترجیح ہے، ایران

تہران(ویب نیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ایران کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع ہے۔ آسٹریا کے ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا وعدہ پورا کیا، لیکن مدت ختم ہونے سے پہلے ہی امریکا نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کیے۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملوں کے ذریعے ایران کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری کرنے میں ناکام رہا اور معاہدے کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر خود امریکی صدر نے دستخط کیے تھے، اس کے باوجود اس کی پاسداری نہیں کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔