کوئٹہ (ویب نیوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے مرکز “امید” پر ہونے والے پاکستانی فضائی حملے کی جنگی جرم کے طور پر آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پاکستانی فوج کا یہ دعویٰ ثابت ہو کہ حملے کے وقت اس مرکز کو فوجی مقاصد یا اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 25 کب 1404 (15 مارچ 2026) کی شب ہونے والے حملے میں کم از کم 269 شہری جاں بحق اور 122 زخمی ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے درجنوں تصاویر، ویڈیوز، سیٹلائٹ تصاویر اور عینی شاہدین و متاثرہ خاندانوں کے افراد کے انٹرویوز کا جائزہ لیا گیا۔ تنظیم کی جنوبی ایشیا کی قائم مقام سربراہ ایزابل لسی نے کہا کہ “امید” مرکز پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے ممکنہ جنگی جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حملے کے فیصلے سے متعلق شفاف، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
