کوئٹہ (ویب نیوز): اسلام آباد میں کووڈ-19 وبا کے دوران چین کی تقریباً 40 لاکھ ڈالر (ایک ارب 11 کروڑ روپے) کی گرانٹ سے تعمیر کیے گئے آئسولیشن ہسپتال اینڈ انفیکشیئس ٹریٹمنٹ سینٹر (آئی ایچ آئی ٹی سی) کے چار سال سے غیر فعال رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔ 265 بستروں پر مشتمل اس جدید ہسپتال کو وبائی اور متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، تاہم کووڈ کے خاتمے کے بعد یہ مرکز استعمال نہ ہونے کے باعث بند پڑا رہا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی ہے کہ ہسپتال میں موجود کئی مشینیں خراب اور ناکارہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فعال بنانے کی تجویز تیار کی گئی ہے، جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ دوسری جانب ہسپتال کے سابق سربراہ ڈاکٹر طارق چیمہ نے سوال اٹھایا ہے کہ متعدی بیماریوں کے لیے قائم اس خصوصی ادارے کی اصل حیثیت اور مقصد کو مستقبل میں کس طرح برقرار رکھا جائے گا۔
