اسلام آباد (ویب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سرمد علی نے کہا ہے کہ این سی سی آئی اے (این سی سی آئی اے) کو اخبارات، ان کی ویب سائٹس، ڈیجیٹل ایڈیشنز اور ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر ہونے والے مواد کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرنٹ اور ڈیجیٹل اخبارات کی شکایات پریس کونسل آف پاکستان جبکہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق معاملات پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے روایتی میڈیا کے خلاف پیکا قانون کے تحت کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔اجلاس میں کمیٹی نے یاد دلایا کہ پیکا قانون کی منظوری کے وقت حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات، ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹی وی چینلز کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے متعلقہ شکایت کنندہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنا معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے لے کر جائے۔سینیٹر پرویز رشید نے اجلاس میں کہا کہ اگر متعلقہ اخبار نے اپنے پرنٹ اور ویب ایڈیشن سے متنازع کالم حذف کر دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ غلطی تسلیم کر لی گئی، لہٰذا اس معاملے کو مزید نہ بڑھایا جائے اور نہ ہی اخبار یا صحافی کے خلاف پیکا یا کسی دوسرے قانون کے تحت مجرمانہ کارروائی کی جائے۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے اجلاس میں کہا کہ بلوچستان اور سندھ کے ریجنل اخبارات شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقائی اخبارات کے اشتہارات اور کاروباری مواقع میں اضافہ کیا جائے تاکہ زبانوں اور علاقائی صحافت کو مالی استحکام حاصل ہو اور یہ ادارے اپنی بقا برقرار رکھ سکیں۔
