کوئٹہ(ویب نیوز) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گر چکی ہے اور صرف رواں گرمیوں کے دوران پانی کی سطح مزید 8 سے 10 فٹ نیچے چلی گئی ہے، جس سے شدید آبی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافے، غیر قانونی بورنگ، بارشوں میں کمی، نئے آبی ذخائر کی عدم تعمیر اور ری چارجنگ نظام کی کمی کے باعث زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے متعدد علاقوں میں شہری کئی کئی روز تک پانی سے محروم رہتے ہیں جبکہ تقریباً 88 فیصد گھرانوں کا انحصار واٹر ٹینکروں پر ہے۔ ماہرین اور شہریوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی بورنگ اور ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی، واسا کے خراب ٹیوب ویلز کی بحالی، نئے ڈیموں اور ری چارجنگ منصوبوں پر فوری عملدرآمد اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئٹہ کو ممکنہ آبی ایمرجنسی سے بچایا جا سکے۔
