کوئٹہ (ویب نیوز) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے آل بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پرچون گڈز ٹرانسپورٹ صوبے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے آنے والی اشیائے خورونوش، ادویات، الیکٹرانکس اور دیگر سامان انہی گڈز کمپنیوں کے ذریعے بلوچستان کے مختلف اضلاع تک پہنچایا جاتا ہے، مگر امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث سپلائی چین شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستونگ، قلات، سوراب اور خضدار سمیت مختلف علاقوں میں مال بردار ٹرکوں کو اغوا، لوٹ مار، بھتہ خوری، فائرنگ اور نذر آتش کرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں جبکہ متعدد چیک پوسٹوں کے باوجود جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض گروہ فی ٹرک دس لاکھ روپے یا اس سے زائد بھتہ طلب کرتے ہیں، جس کا بوجھ آخرکار عوام پر مہنگائی کی صورت میں پڑتا ہے۔ عبدالرحیم کاکڑ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے تو کراچی تا کوئٹہ اور اندرون بلوچستان پرچون گڈز کی ترسیل مکمل طور پر بند کر دی جائے گی، جس سے آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات، بچوں کی خوراک، الیکٹرانکس، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، کور کمانڈر، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور آئی جی ایف سی سے قومی شاہراہوں پر مؤثر سیکیورٹی، مستقل پٹرولنگ، بھتہ خوروں اور اغوا کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور تاجروں و ٹرانسپورٹرز کے جان و مال کے تحفظ کی عملی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سخت احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
