تازہ ترین ۱۳ جولائی ۲۰۲۶

وزیراعلیٰ بلوچستان کا اپوزیشن لیڈر کے بیان پر سخت ردعمل، کہا کرسی آنی جانی چیز ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت ہے

کوئٹہ(سیدسردارمحمدخوندئی) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرسی آنے جانے والی چیز ہے، اصل بات بلوچستان کے لوگوں کی خدمت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، بخت محمد کاکڑ، میر ضیاء اللہ لانگو، میر سلیم کھوسہ سمیت دیگر سیاسی و قبائلی رہنماؤں نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر آج میرے استعفے سے بلوچستان کے حالات بہتر ہوتے ہیں، اگر بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر یہ اعلان کر دیں کہ سرفراز بگٹی کے استعفے یا قتل سے بلوچستان میں امن آ جائے گا تو میں پہلا شخص ہوں گا جو کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے بھائی سے کہوں گا کہ مجھے گولی مار دے، لیکن بلوچستان کے لوگوں میں امن قائم ہو جائے۔

انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب کٹ کوچہ میں 20 معصوم پشتون شہید ہوئے تھے تو کیا آپ کے بھائی نے استعفیٰ دیا تھا؟ کیا آپ کے بھائی نے گورنر اور وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟ اور جو وزرائے کرام آج دھرنے میں موجود ہیں، کیا انہوں نے استعفیٰ دیا تھا؟

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سانحہ 8 اگست کو ہمارے وکلاء کو بے دردی سے شہید کیا گیا، تو کیا اس وقت آپ کے استعفے آئے تھے؟ اس کے بعد جتنے بھی واقعات ہوئے، خصوصاً پولیس لائن سانحہ جہاں 30 سے زائد نوجوان ریکروٹس کو بے دردی سے شہید کیا گیا، اس رات میڈیا کے دوست گواہ ہیں کہ سب سے پہلے وہاں پہنچنے والا شخص سرفراز بگٹی تھا۔ لہٰذا یہ استعفوں کا معاملہ نہیں ہے۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سیاست ضرور کریں، میری کوتاہی پر تنقید کریں، اگر میری بدانتظامی نظر آتی ہے تو اس پر بات کریں، اگر کرپشن نظر آتی ہے تو اس کی نشاندہی کریں، میری اصلاح کریں۔ اپوزیشن کا مطلب اپوزیشن ہی ہے، لیکن خدارا لاشوں پر سیاست چھوڑ دیں، شہداء کی لاشوں پر سیاست نہ کریں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ میں شہداء کے لواحقین اور سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ کے جو جائز مطالبات ہیں، ہم انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو کام اسمبلی کا ہے وہ اسمبلی کرے گی اور جو کام صوبائی حکومت کا ہے وہ صوبائی حکومت انجام دے گی۔