تازہ ترین ۱۳ جولائی ۲۰۲۶

زیارت مانگی ڈیم فیز تھری شہداء دھرنا: آل پارٹیز اجلاس، احتجاجی شیڈول، مذاکراتی اور قانونی کمیٹیوں کا اعلان

کوئٹہ: 13 جولائی 2026 (ویب ڈیسک)زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہداء کے دھرنے کے حوالے سے آل پارٹیز، شہداء کے لواحقین اور مختلف سماجی و تاجر تنظیموں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، پاکستان تحریک انصاف، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، مظلوم اولسی تحریک سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایم این اے عادل خان بازئی، عیسیٰ روشان، نصراللہ زیرے، فقیر خوشحال کاسی، اصغر خان اچکزئی، رشید خان ناصر، ثناء اللہ کاکڑ، عبدالقہار ودان، مولانا کمال الدین، عبدالمتین آخندزادہ، جمیل مشوانی، حلیم حماس، احمد جان خان، نور خان خلجی، گل اکبر دومڑ، چنگیز حئی بلوچ، علی احمد لانگو، آغا حسن بلوچ، عباس خان درانی، اسفندیار کاکڑ، شہداء کے لواحقین نسیم خان، ڈاکٹر عبدالصمد، طارق ترین، نواز خان، نقیب اللہ، فیروز خان، حاجی زین اللہ، ڈاکٹر ہدایت اللہ، انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ اور حضرت علی اچکزئی سمیت دیگر نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس میں جاری دھرنے، امن و امان کی صورتحال اور آئندہ احتجاجی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق 15 جولائی کو ژوب، ہرنائی، چمن، تربت، گوادر اور پنجگور میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، 16 جولائی کو کوئلہ پھاٹک کے دھرنے میں خواتین اور بچوں کا خصوصی احتجاج ہوگا، جبکہ 17 جولائی کو صوبہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ اجلاس نے متنبہ کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔اجلاس میں حکومت سے مذاکرات کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور شہداء کے لواحقین کے نمائندوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے سینئر وکلاء پر مشتمل ایک قانونی کمیٹی بھی قائم کی گئی۔اجلاس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہداء کے لواحقین کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے واضح اختیارات کے حامل آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی مؤثر بحالی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ، انصاف کے حصول اور امن کے قیام کے لیے آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ شرکاء نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری مذاکرات کرے اور مطالبات کو حل کرکے کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا تصادم سے گریز یقینی بنائے۔