لاہور (ویب نیوز)لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 14 بچے جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ ہسپتال حکام کے مطابق زخمی بچوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جبکہ 14 بچوں کو مردہ حالت میں لایا گیا۔ڈاکٹر احسن کے مطابق پانچ زخمی بچوں کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ٹیوشن سینٹر چلانے والی خاتون اور ان کا بچہ بھی ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہوئے۔جاں بحق بچوں کی شناخت ماہ نور فاروق (8)، سلمان وسیم (6)، خدیجہ وسیم (12)، فواد عابد (8)، ایمان فاطمہ (7)، تسبیح شہزاد (7)، عبداللہ مرتضیٰ (5)، عروج مرتضیٰ (8)، رمشا عاطف (6)، ارتضیٰ عاطف (4)، علی فرمان (6)، ارحم حسن (6)، دعا گل فام (7) اور عبداللہ اصغر (7) کے ناموں سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ٹیوشن سینٹر کی مالک سمیت دو افراد کو ابتدائی طور پر حراست میں لیا گیا، جبکہ بعد ازاں مکان کے مالک ریحان، تعمیراتی کام میں مصروف مستری اور دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثہ جس مکان میں پیش آیا وہ چھ مرلے پر مشتمل تھا، جہاں انیلا نامی خاتون بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ واقعے کے وقت مکان میں تقریباً 18 سے 20 بچے موجود تھے، جبکہ جاں بحق بچوں کی عمریں 4 سے 12 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مکان کی چھت ٹی آئرن گرڈرز پر تعمیر کی گئی تھی اور بالائی منزل پر ٹائلیں بچھانے کا کام جاری تھا، جس کے دوران چھت منہدم ہو گئی۔پولیس نے زخمی ٹیچر انیلا کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق مکان کے مالک کی اہلیہ ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے اسپیشل برانچ اور پولیس نے مشترکہ انکوائری شروع کر دی ہے۔صدر آصف علی زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
