کوئٹہ (ویب نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ۲۸ویں آئینی ترمیم سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ تجویز یا مسودہ سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ سازی کے عمل میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ساتھ دیا، تاہم دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی الگ الگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ عوام کو ان کے حقوق بلدیاتی انتخابات کے ذریعے ملنے چاہییں۔ نیئر بخاری نے کہا کہ صوبوں نے اپنے وسائل سے وفاق کو مالی تعاون فراہم کیا ہے، اس لیے صوبائی خودمختاری میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات جیتے، ایم کیو ایم نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا، جبکہ جماعت اسلامی کو میئر کا حق اسی صورت حاصل ہوتا اگر عوام انہیں ووٹ دیتے، لہٰذا ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو صبر سے کام لیتے ہوئے بلدیاتی نظام کو چلنے دینا چاہیے۔
