کوئٹہ (ویب نیوز) ) توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود عالمی منڈیوں میں فوری استحکام اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ توانائی کی قیمتیں جلد جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی، تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل مکمل طور پر بحال ہونے اور سپلائی چین کے معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاز رانی کی کمپنیاں حتمی امن معاہدے تک محتاط رہیں گی، جس کے باعث صارفین تک قیمتوں میں کمی کے اثرات پہنچنے میں بھی وقت درکار ہوگا۔
