مقامی ۱۳ جون ۲۰۲۶

میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس، 8 فروری 2027 کو بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی منظوری

کوئٹہ((وېب نيوز)وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں عوامی مفاد، انتظامی اصلاحات، بلدیاتی نظام، قانون و انصاف، صحت اور بہتر طرزِ حکمرانی سے متعلق متعدد تاریخی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و استحکام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہری شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ وزیراعلی کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے پریس کانفرنس میں فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر 8 فروری 2027 کو ان کی باقاعدہ تحلیل کی منظوری دیدی ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئے اضلاع کی تشکیل، حلقہ بندیوں اور عدلیہ کے فیصلوں سے متعلق تمام امور الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے جائیں گے، جبکہ انتظامی وجوہات کی بنا پر کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات بھی صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ایک ہی مرحلے میں کرائے جائیں گے۔معاون وزیر اعلی شاہد رند نے بتایا کہ بلدیاتی نظام کو مزید مثر بنانے کے لیے ضلع بارکھان میں نئی میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران اور برشور میں بھی نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ میونسپل کمیٹی خاران کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیدیا گیا ہے تاکہ مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ ہو سکے۔ صوبائی کابینہ نے معلومات تک رسائی کو مزید شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی۔ قانون و انصاف کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے کابینہ نے صوبے کے تمام سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کو سی این ایس (منشیات) کے مقدمات کے ٹرائل کے اختیارات دینے کی منظوری دی ہے، جس سے منشیات سے متعلق کیسز کے جلد فیصلے ہو سکیں گے۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2026 کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے ملازمین کی فلاح کے لیے بلوچستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی منظوری دی، جس کے تحت سیکرٹریٹ ملازمین کو گھروں کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضوں کی سہولت ملے گی۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے لیے محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کرکے انٹر فیتھ ہارمونی ڈیپارٹمنٹ رکھنے کی منظوری دی گئی، جبکہ محکمہ ثقافت کے منسلک ونگز میں گریڈ 1 سے 15 تک کے ملازمین کے لیے کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ پالیسی منظور کی گئی۔ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی واش (WASH) پالیسی دستاویزات اور صحت کے شعبے میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو صوبائی ٹیکسوں سے مستثنی قرار دینے کی منظوری دی گئی۔ نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے نرسنگ گریجویٹ ٹرینیز کا ماہانہ وظیفہ 28 ہزار 70 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے بتایا کہ امن و امان کے لیے حب اور ڈام میں نئے پولیس اسٹیشنز جبکہ ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں خصوصی ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔