کوئٹہ (ویب نیوز) نیشنل پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ مسلط کردہ حکومت ہے، اور اگر ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے معاملے پر سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اور عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے جوابات پر عوام اور ڈاکٹر برادری مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں جہاں بھی غفلت، کوتاہی یا ذمہ داران کی ناکامی سامنے آئی ہے اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، جبکہ متاثرین کے خلاف کارروائیوں سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک بااختیار اور غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری قائم کی جائے، تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ اور رکن اسمبلی خیر جان بلوچ بھی موجود تھے۔
