کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)سول ہسپتال کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کی جانب سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں سول ہسپتال کی لیڈی پی جی ڈاکٹر ماہ نور پر حالیہ تیزاب حملے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پوری طبی برادری اور معاشرتی رویوں پر حملہ قرار دیا گیا۔ پریس کانفرنس سے وائی ڈی اے کے رہنماں ڈاکٹر حی بلوچ اور ڈاکٹر بہار شاہ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو سخت وارننگ دی کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار سول ہسپتال سے بڑھا کر پورے بلوچستان تک پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دن دہاڑے لیڈی ڈاکٹر کو تیزاب حملے کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش نے ڈاکٹروں میں شدید خوف اور غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرانے، ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی ایکٹ پاس کرنے اور انہیں پنجاب طرز کی فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔رہنماں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں سیکرٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال کی انتظامی غفلت شامل ہے، لہذا دونوں افسران کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کر کے شفاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے ڈی آئی جی پولیس کے مبینہ ریمارکس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کے حوالے سے سنگین نوعیت کے بیانات اور معاملے کو رشتے کا تنازع کہہ کر معاشرتی مذاق بنانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر بہار شاہ نے واضح کیا کہ ینگ ڈاکٹرز کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں بلکہ ان کا احتجاج پیشہ ورانہ ہے، جس کے تحت 13 جون کو شیخ زید ہسپتال سے کوئٹہ پریس کلب تک ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے بھر میں او پی ڈیز بند ہونے کے باوجود ینگ ڈاکٹرز انسانی ہمدردی کے تحت غریب مریضوں کا پرائیویٹ طور پر مفت علاج جاری رکھیں گے، تاہم اگر حکومت نے ڈاکٹرز کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی جس کی ذمہ داری حکام پر ہوگی۔
