مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

ایف سی فائرنگ سے تاجر نصراللہ کی شہادت اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر پشتونخوامیپ کی سخت مذمت، انصاف کا مطالبہ

کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں گزشتہ روز ایف سی کی فائرنگ سے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ملک حاجی محمد عیسی خان اچکزئی کے بھتیجے اور معصوم خان کے فرزند، نوجوان تاجر نصراللہ خان کے المناک قتل کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل عام کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ میروائس خان کی شہادت کے بعد گزشتہ روز تاجر نصراللہ کو نشانہ بنانا انتہائی ظالمانہ اقدام ہے، جس پر حکومت اور آئی جی ایف سی کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ کسی بھی فورس کو بے گناہ انسانوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مگر چمن، قلعہ عبداللہ اور ڈیورنڈ خط پر شہریوں کو مسلسل گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے گورنر، وزیر اعلی اور آئی جی ایف سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں، قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ائی جی ایف سی سے جواب طلبی کی جائے۔ بیان میں لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر کی یقین دہانی پر ہی احتجاجی دھرنا ختم کیا گیا، اگر وعدہ پورا نہ ہوا تو سخت لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔پریس ریلیز کے دوسرے حصے میں کوئٹہ اور جنوبی پشتونخوا کے بوائز و گرلز ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں میں شعبہ پشتو کے اساتذہ کے تبادلوں اور اس شعبے کو تکنیکی انداز میں ختم کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اسے پشتون دشمن پالیسی اور لسانی و ثقافتی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشتو زبان، تہذیب اور قومی تشخص کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تدریس کو محدود کیا جا رہا ہے، جو آئینی و جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ پارٹی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام کالجوں میں پشتو زبان و ادب کی تدریس کے لیے درکار اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے اور شعبہ پشتو کے خلاف جاری تمام سازشی پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ بیان میں عزم ظاہر کیا گیا کہ پشتون عوام اپنے قومی تشخص اور زبان کے تحفظ کے لیے ہر آئینی فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور ایسی کسی سازش کو قبول نہیں کریں گے۔