کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، صوبائی امیر خیبر پختونخوا قاضی گل الرحمن نکیال، صوبائی امیر پنجاب مولانا ثنا اللہ، صوبائی امیر سندھ مولانا عزیز احمد شاہ امروٹی، مرکزی سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سیکرٹری مولانا قاری مہر اللہ، سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی، مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ، مفتی فدا الرحمن اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ملک اس وقت آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے جس سے پوری قوم شدید کرب اور اضطراب سے دوچار ہے۔ طاقت کے استعمال کے غلط فیصلوں، حکمرانوں کے امتیازی سلوک اور ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست کی رٹ چیلنج ہو رہی ہے اور پورے ملک میں سراپا احتجاج اور بغاوت کی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اس پر پابندی لگا دی گئی، کیا ایسی جابرانہ پابندیوں سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟ آزاد کشمیر میں مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے بجائے بدقسمتی سے طاقت کا راستہ اختیار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جبر اور آمریت کی فضا قائم کر کے 1971 جیسے حالات جان بوجھ کر پیدا کیے جا رہے ہیں اور حکومت کی جابرانہ و ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف عوام سڑکوں پر ہیں۔ ان ظالمانہ اقدامات سے ملک کو ایک نئے اور بھیانک بحران کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جبکہ قومی قیادت ملکی ایشوز پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے۔ قائدین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ کے تمام فیصلے مقتدر قوتوں کے زیرِ دست ہیں، جس کے باعث قومی سلامتی، علاقائی امن اور خوشحالی شدید خطرے میں پڑ چکی ہے۔ ملک سیاسی عدم استحکام، بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے کیونکہ ملکی مسائل پر پارلیمنٹ کے پاس اب فیصلے کا کوئی حقیقی اختیار نہیں
