مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

بلوچستان میں اینٹی کرپشن کی بڑی کارروائی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لورالائی میں مبینہ کرپشن بے نقاب

کوئٹہ(ویب نیوز) اینٹی کرپشن لورالائی سرکل کی جانب سے کی جانے والی ایک بڑی کارروائی کے دوران پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ لورالائی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ملوث ملزمان کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، انکوائری نمبر 11/Q/2026 کے تحت کی جانے والی تفصیلی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمے کے متعدد افسران نے مروجہ قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سرکاری فنڈز میں سنگین خردبرد کی، جس پر سابق ایکسین محمد علی ہزارہ اور سابق ایس ڈی او امین اللہ سمیت دیگر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔تحقیقات میں مزید اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ سال 25-2024 کے دوران بوگس بنیادوں پر بھاری بلز کلیئر کیے گئے، اور فیلڈ میں بغیر کام مکمل کیے ہی من پسند افراد کو ایڈوانس ادائیگیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ متعدد ٹیوب ویلز کی تنصیب کے نام پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے کے فنڈز تو جاری کروا لیے گئے، مگر عملی طور پر زمین پر کوئی ٹیوب ویل نصب ہی نہیں کیا گیا۔ اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بلوچستان اینٹی کرپشن ایکٹ 2011 کے سیکشن 11 اور 13 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے؛ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کیس میں ملوث دیگر افراد کی تلاش بھی تیز کر دی گئی ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔