کوئٹہ(ویب نیوز) فیفا کے صومالی نژاد ریفری عمر ارتان نے امریکا میں داخلے سے روکے جانے کے واقعے پر پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی امیگریشن حکام نے ان سے 11 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، لیکن داخلے سے انکار کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ طویل تفتیش کے دوران ان سے صومالیہ کی سیاست، الشباب اور ذاتی پس منظر سے متعلق سوالات کیے گئے، جبکہ ان کے فیفا دستاویزات اور پیشہ ورانہ ریکارڈ کی بھی جانچ کی گئی۔ عمر ارتان کے مطابق تمام قانونی ویزا اور ضروری دستاویزات موجود ہونے کے باوجود انہیں کئی گھنٹے حراستی سیل میں رکھا گیا اور بعد ازاں استنبول واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے فرائض انجام دینا ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا اور یہ صرف ان کی نہیں بلکہ پورے صومالیہ کی کامیابی ہوتی، تاہم اس موقع سے محروم ہونے پر وہ شدید مایوس ہیں۔
