خضدار (ویب نیوز) بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال میں کالعدم مسلح تنظیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، سینکڑوں مسلح افراد نے نال شہر پر منظم انداز میں حملہ کیا، جس کے دوران پولیس اسٹیشن، قیمتی پتھروں کی ایک فیکٹری اور متعدد سرکاری و عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے شہر میں داخل ہونے کے بعد پولیس تھانے کا محاصرہ کیا اور بعد ازاں اسے اپنے قبضے میں لے کر نذرِ آتش کر دیا۔ حملے کے دوران تھانے میں موجود سرکاری ریکارڈ، فرنیچر اور دیگر سامان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اسی دوران مسلح افراد نے علاقے میں قائم قیمتی پتھروں کی ایک فیکٹری کو بھی آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں فیکٹری کے مختلف حصے تباہ ہوگئے اور لاکھوں روپے مالیت کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق، حملہ آور کئی گھنٹوں تک نال شہر کے مختلف حصوں میں موجود رہے اور انہوں نے متعدد مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی۔ اس دوران شہریوں نے گھروں میں محصور رہنے کو ترجیح دی جبکہ کاروباری مراکز اور بازار مکمل طور پر بند رہے۔ صورتحال کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے اور شہریوں میں خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ذرائع کے مطابق، حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہونے کے باعث نال شہر کی جانب آنے اور جانے والے تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہونے سے مسافروں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں مواصلاتی رابطوں میں بھی خلل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے کی جانب روانہ کردی گئی ہے جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال جانی نقصان یا زخمیوں کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے اثرات کا جائزہ لینے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
