تازہ ترین ۶ مئی ۲۰۲۶

امریکا اور ایران میں جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار: امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن/تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوز‘ کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب پہنچ چکے ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔
48 گھنٹے اہم، کشنر اور وٹکوف متحرک
رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے۔ اگرچہ تاحال کسی دستاویز پر باضابطہ دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کے نمایاں پہلو

  • جنگ کا فوری خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔
  • 30 دن کی مہلت اور اسلام آباد/جنیوا مذاکرات: معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔
  • آبنائے ہرمز کی بحالی: اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔
  • ایٹمی پروگرام اور یورینیئم کی منتقلی: ایران نے اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر (ممکنہ طور پر امریکا) منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔
    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو ’انتہائی پیچیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس سے اتفاقِ رائے میں مشکل آ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔