کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل ویب ڈیسک)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے سب سے بڑے سرکاری معالجاتی مرکز سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نامعلوم وحشی شخص نے خاتون پوسٹ گریجویٹ (پی جی) ڈاکٹر پر اندھا دھند تیزاب پھینک دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے میں شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن(وائی ڈی اے)بلوچستان نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے اس سفاکانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیکیورٹی کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔ وائی ڈی اے نے حکومت، محکمہ صحت اور پولیس کو الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت کارروائی نہ کی گئی تو صوبہ بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کر دی جائے گی۔دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ اعلی کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو فوری طور پر بہتر علاج معالجے کے لیے آریا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کی حالت کے پیشِ نظر کراچی منتقلی کے لیے ائیر ایمبولینس کو بھی اسٹینڈ بائی پر رکھ دیا گیا ہے۔ شاہد رند کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزم کی شناخت کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور خواتین ڈاکٹرز سمیت تمام طبی عملے کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آف پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے سول ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے بتایا کہ خاتون ڈاکٹر پر حملہ پوری ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور ملوث درندہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ انہوں نے تمام ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو الرٹ کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور دعوی کیا ہے کہ ملزم کی شناخت ہو چکی ہے جس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزا دلوائی جائے گی اور ہسپتالوں کی سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنایا جائے گا۔
