تازہ ترین ۶ جون ۲۰۲۶

پاکستان کے بارے میں بھارتی صحافی کے سوال پر پیوٹن کا دوٹوک جواب

سینٹ پیٹرزبرگ(صداقت ویب) روسی صدر نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں ایک بھارتی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان مکمل طور پر چین کے زیرِ اثر ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے کے نمائندے کی جانب سے پاکستان، چین اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے سوال پر روسی صدر نے کہا کہ “پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ متنوع تعلقات ہیں۔” انہوں نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ پاکستان کی تمام پالیسیوں کا تعین چین کرتا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک چین کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں اور پاکستان بھی اپنے قومی مفادات کے تحت مختلف ممالک سے روابط رکھتا ہے۔ انہوں نے بھارت اور چین کے تعلقات کو “حساس اور کثیرالجہتی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی مداخلت مسائل کے حل میں مددگار نہیں ہوگی۔ روسی صدر نے اس موقع پر بھارت کو روس کا اہم شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ ماسکو نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات موجود ہیں اور روس خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور بحرانوں کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔یوکرین جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیوٹن کے بیان سے یہ تاثر ابھرا کہ روس جنوبی ایشیا میں پاکستان، بھارت اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی ایک ملک کے بارے میں یک طرفہ مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ ی