کوئٹہ( ویب نیوز)امریکی سینیٹ میں ایران سے مذاکرات کے معاملے پر گرما گرم بحث کے دوران نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر امریکا ایران سے معاہدے کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے۔ سینیٹ کی سماعت کے دوران انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کی طرف واپس جانے کی کوشش کر رہا ہے جسے وہ خود ماضی میں مسترد کر چکا تھا، جبکہ ایران اب بھی اہم علاقائی معاملات پر سخت مؤقف رکھتا ہے۔ جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے اور مذاکرات کو بھیک مانگنے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات ایک انتہائی تکنیکی اور پیچیدہ عمل ہے جسے چند دنوں میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ماہرین کی سطح پر یہ بات چیت کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے مستقبل کے بارے میں واضح یقین دہانی کرانا ہوگی۔ روبیو نے مزید کہا کہ ایران اب اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر بات چیت کے لیے تیار ہو گیا ہے جن پر وہ پہلے آمادہ نہیں تھا۔
