تهران(روزنامہ صداقت):** ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ اور قومی مفادات کی مکمل یقین دہانی موجود نہ ہو۔ایرانی پارلیمنٹ کے دوبارہ منتخب اسپیکر کی حیثیت سے حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہوگا جب اس کے عملی اور ٹھوس نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے محض وعدوں یا بیانات پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ ہر یقین دہانی کے عملی ثبوت اور نتائج کو ترجیح دی جائے گی۔باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ دشمن کی باتوں، وعدوں اور سیاسی اعلانات پر اعتماد ممکن نہیں، اس لیے ایران کے لیے اصل معیار قومی مفادات، ایرانی عوام کے حقوق اور عملی نتائج کا حصول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی ایسے سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہوگا جو ملکی خودمختاری، وقار اور عوامی مفادات کے برخلاف ہو۔
