کوئٹہ (صداقت نيوز)ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے میزئی اڈہ میں فائرنگ اور اس کے بعد پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں ممتاز قبائلی و سماجی شخصیت داد محمد کاکڑ عرف دادگئی سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور احتجاجاً کوئٹہ۔چمن شاہراہ مختلف مقامات پر بند کر دی گئی۔پولیس ذرائع اور مقامی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے میزئی اڈہ کے ایک مصروف مقام پر اچانک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں قبائلی رہنما داد محمد کاکڑ عرف دادگئی، سید متک آغا اور جبار پہلوان موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ سید جعفر آغا سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو فوری طور پر ٹراما سینٹر میزئی اڈہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بعض اموات کی تصدیق کی۔واقعے کے بعد علاقے میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور قبائلی عمائدین، لواحقین اور مقامی افراد نے احتجاجاً کوئٹہ۔چمن شاہراہ قلعہ عبداللہ، میزئی اڈہ اور دیگر مقامات پر بند کر دی۔ احتجاج کرنے والوں نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات معمول پر آنے تک احتیاط برتی جائے۔دریں اثنا دولنگی گلستان کے علاقے سے بھی دو متحارب گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض ذرائع نے متعدد گھروں کو نذر آتش کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار نظر گل حمیدزئی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔ذرائع کے مطابق علاقے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات پر قابو پانے اور ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مزید تفصیلات موصول ہونے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
