مقبوضہ بیت المقدس (صداقت ویب نیوز) ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات کو اردن سے واپس لینے سے متعلق ایک ممکنہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ زیر غور ہے، جس کے تحت موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اردن کی سرپرستی میں قائم اسلامی وقف اتھارٹی کو ختم کر کے ایک نیا ادارہ بنانے کی بات کی جا رہی ہے، جس میں مسجد اقصیٰ کو “کثیر المذاہب مرکز” کے طور پر پیش کرنے کا تصور شامل ہے۔ذرائع کے مطابق اس مبینہ منصوبے کے تحت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ تک زیادہ رسائی دینے اور بعض مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دینے کی تجاویز بھی زیر بحث ہیں، جبکہ انتظامی تقرریوں اور خطبات کے مواد پر بھی اثر و رسوخ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض خلیجی ممالک کو اس منصوبے سے متعلق بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم سعودی عرب سمیت کچھ ممالک نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
