کوئٹہ (صداقت ویب نیوز)حکومتِ بلوچستان نے عیدالاضحی کے مبارک موقع پر صوبے بھر میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سخت ترین حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت زیارت اور ہرنائی سمیت متعدد سیاحتی مقامات پر پکنک منانے اور غیر مقامی افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ بلوچستان سے ٹرین سروس بھی عید کے ابتدائی دو روز معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کی جانب سے جاری ہدایات کے بعد مختلف اضلاع کی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ عیدالاضحی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حساس اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ عوامی اجتماعات اور تفریحی سرگرمیوں پر بھی سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر زیارت کے مطابق ضلع بھر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث مزید پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں، جس کے تحت زیارت کے معروف تفریحی مقامات زریو پوائنٹ، زریزری، ڈومیارہ اور دیگر پوائنٹس پر پکنک منانے، اجتماعات کرنے اور غیر مقامی سیاحوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ضلع ہرنائی میں بھی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 26 مئی سے 30 مئی تک ضلع بھر کے تمام پکنک پوائنٹس بشمول پری چشمہ، ڈومیارہ، اختری، وام تنگی، اسپین تنگی، ازمری شور، شاہرگ، انجیر اور زندہ پیر میں عوام کے جانے پر پابندی عائد رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ادھر ریلوے حکام نے بھی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بلوچستان سے ٹرین آپریشن محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت عیدالاضحی کے پہلے دو روز صوبے سے ٹرین سروس مکمل طور پر معطل رہے گی۔ ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی 27 اور 28 مئی کی روانگیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی عارضی طور پر جیکب آباد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی جانے والی بولان میل اور چمن کے لیے چلنے والی چمن پسنجر ٹرین پہلے ہی بند ہیں جس کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے دوران حساس تنصیبات، ریلوے ٹریکس، بس اڈوں، مساجد اور عیدگاہوں کی سیکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔
