تازہ ترین ۲۳ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کے مثبت نتائج، دو برس میں 3 ہزار 778 بند اسکول بحال، 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا داخلہ یقینی

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) 23 مئی: میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران صوبے بھر میں 3 ہزار 778 بند اسکولوں کو دوبارہ فعال بنانے کے ساتھ 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی جبکہ طلبہ کے اسکولوں میں برقرار رہنے کی شرح میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تعلیم کے شعبے میں حکومتی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق غیر فعال تعلیمی اداروں کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا جس سے ہزاروں بچے دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل ہوئے اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے، نوجوان نسل کے روشن مستقبل اور صوبے کی پائیدار ترقی کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے، اسی لیے حکومت اس شعبے میں مزید اصلاحات، مؤثر نگرانی، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ صوبے کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی یقینی بنائی جا سکے.