کوئٹہ ( صداقت نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پی ڈی ایم اے میں گریڈ 16 اور 17 کی اہم آسامیوں کو بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پُر کرنے کے بجائے مبینہ طور پر غیر شفاف، مشکوک اور فرضی ٹیسٹوں کے ذریعے براہِ راست بھرتیوں کی کوشش آئین، قانون اور میرٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو بلوچستان کے ہزاروں تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایک آئینی اور خودمختار ادارہ ہے جس کا مقصد شفاف اور میرٹ پر مبنی روزگار فراہم کرنا ہے، مگر موجودہ طرز عمل کے ذریعے سیاسی بنیادوں، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے نوجوانوں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری اور احساس محرومی کا شکار ہے اور اگر یہ بھرتیاں بی پی ایس سی کے ذریعے نہ کی گئیں تو ادارہ جاتی کمزوری اور بداعتمادی مزید بڑھے گی۔ پارٹی نے عدالت عالیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس عمل کو فوری روکا جائے اور تمام بھرتیاں مکمل شفافیت کے ساتھ بی پی ایس سی کے ذریعے کی جائیں، جبکہ آخر میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ہر جمہوری اور قانونی فورم پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
