اسلام آباد (ویب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر جان محمد بلیدی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج، ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی ملازمتوں کے کوٹے کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ پیکیج کے تحت 1,984.3 ارب روپے کی منظور شدہ لاگت سے 138 منصوبوں پر کام جاری ہے اور رواں مالی سال میں بلوچستان کے لیے 193 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آبی وسائل کے 18 منصوبوں کی مجموعی لاگت 369.3 ارب روپے بتائی گئی، جبکہ منگی ڈیم کا 80 فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے پنجگور ڈیم اور گیش کور اسٹوریج ڈیم کی لاگت میں اضافے اور مقامی آبادی پر ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپارکو اور واپڈا سے رپورٹ طلب کی۔ این ایچ اے حکام کے مطابق کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران۔ہوشاب روڈ کا 64 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اجلاس میں بلوچستان کوٹے کی 4,500 سے زائد آسامیوں کے اشتہارات اور آن لائن پورٹل کی تکنیکی خامیوں پر بھی بات ہوئی۔ کنوینر نے زائد العمر امیدواروں کی درخواستیں جمع نہ ہونے کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔
