اسلام آباد (ویب نیوز) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ گواہ کے بیانِ ابتدائی کا ایک لفظ بھی قلمبند ہونے کے بعد استغاثہ اسے اپنی مرضی سے دستبردار نہیں کر سکتا، کیونکہ اس مرحلے پر ملزم کا حقِ جرح قائم ہو جاتا ہے۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے قتل کے مقدمے میں ملزمان قیصر محمود اور اشتیاق احمد کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے۔ عدالت نے کہا کہ بیانِ ابتدائی اور جرح ایک ہی قانونی کارروائی کے لازمی حصے ہیں اور گواہ کو بیان شروع ہونے کے بعد واپس کرنا ملزم کے حقِ جرح کو غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہوگا۔ مقدمے میں مقتول کی اہلیہ مسرت بی بی کو بیان شروع ہونے کے بعد دستبردار کرنے پر عدالت نے ناپسندیدگی ظاہر کی، تاہم دیگر دو عینی گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد کی تائید کے باعث فیصلے کو برقرار رکھا۔ ملزم قیصر محمود کو 2017 میں گوجرانوالہ میں رانا لیاقت علی کے قتل کے جرم میں عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
