اداریہ ۶ اکتوبر ۲۰۲۶

روس کی ثالثی اور پاکستان افغانستان اختلافات: حل کی اصل ذمہ داری کابل اور اسلام آباد پر ہے.

روس نے یوکرین سمیت مختلف محاذوں پر مغربی طاقتوں کے ساتھ طویل کشمکش کے باوجود افغانستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خطے کے اہم ممالک نے شرکت کی، مگر اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا۔ بظاہر یہ صورت حال سفارتی ناکامی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات اب محض سرحدی یا سفارتی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ سلامتی، دہشت گردی، باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی پالیسیوں پر شدید تحفظات تک پھیل چکے ہیں۔

اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جس روس کے خلاف پاکستان اور افغانستان ماضی میں مختلف ادوار میں جنگی محاذوں کا حصہ رہے، آج وہی روس دونوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاریخ کا یہ تضاد اپنے اندر ایک بڑا سبق رکھتا ہے کہ ریاستوں کے تعلقات مستقل دشمنی کے بجائے بدلتے ہوئے قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ ماسکو آج کابل اور اسلام آباد دونوں کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے خلاف الزامات عائد کرتے رہیں اور کسی مشترکہ اعلامیے کی بنیادی زبان پر بھی اتفاق نہ کرسکیں تو بیرونی ثالثی بھی محدود نتائج ہی دے گی۔ روس راستہ دکھا سکتا ہے، مذاکرات کا ماحول پیدا کرسکتا ہے اور دونوں فریقوں کو ایک میز پر بٹھا سکتا ہے، مگر مستقل حل کابل اور اسلام آباد کو خود تلاش کرنا ہوگا۔

پاکستان اور افغانستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ایک دوسرے کو شکست دینا کسی کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان کو افغانستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے تحفظات خصوصاً سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر واضح، قابلِ تصدیق اور سفارتی انداز میں پیش کرنا چاہیے، جبکہ افغان حکومت کو بھی پاکستان کے سلامتی سے متعلق خدشات کو محض الزام سمجھ کر مسترد کرنے کے بجائے ان کا عملی جواب دینا ہوگا۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر الزامات کی جنگ ختم کرکے قابلِ عمل طریقۂ کار وضع کرنا چاہیے جس میں سرحدی سلامتی، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی، قیدیوں اور مہاجرین کے معاملات، تجارتی روابط اور سیاسی رابطوں کو ایک جامع مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔ ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ اگرچہ اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث جاری نہیں ہوسکا، لیکن یہ تعطل آخری منزل نہیں ہونا چاہیے؛ اسے اسلام آباد اور کابل کے لیے اس بات کا موقع بننا چاہیے کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کا ایسا حل تلاش کریں جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو جنگ، بداعتمادی اور مسلسل کشیدگی سے نجات مل سکے۔