قیامِ پاکستان سے آج تک افغانستان میں بادشاہت، جمہوریت، کمیونسٹ حکومت، مجاہدین اور طالبان سمیت مختلف نظام اور حکمران آتے جاتے رہے، مگر پاکستان اور افغانستان کے بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوسکے۔ ظاہر شاہ سے سردار داؤد، نورمحمد ترہ کی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، گلبدین حکمت یار اور دوسرے مجاہدین، ملا عمر، حامد کرزئی، اشرف غنی اور موجودہ طالبان تک افغان سیاست کے تقریباً تمام ادوار کے تجربات میں ڈیورنڈ لائن، افغان خودمختاری، پاکستان کی افغان پالیسی اور باہمی عدم اعتماد کے مسائل موجود رہے ہیں۔ کسی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان کی خواہش کے مطابق مستقل بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے پر سمجھوتہ نہیں کیا، اور افغانستان نے یہ اصول بھی قبول نہیں کیا کہ اس کی بھارت یا دوسرے ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی پاکستان کی خواہشات کے تابع ہو۔ دوسری طرف پاکستان کا بنیادی مؤقف اپنی سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے اور اس امر پر قائم ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ افغانستان کے مجاہدین اور طالبان میں موجود کئی لوگ گزشتہ کئی دہائیوں کے واقعات کے براہِ راست گواہ ہیں اور افغان حلقے طویل عرصے سے پاکستان پر افغانستان کے اندر بعض مسلح عناصر کی پشت پناہی یا مداخلت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ موجودہ کشیدگی میں افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے 27 ستمبر 2026 کو نورستان کے واقعے کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان لاکر تربیت دی گئی اور انہیں افغانستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے واپس بھیجا گیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ یہاں ’’اربکیان‘‘ کی اصطلاح بھی درست تناظر میں سمجھنا ضروری ہے: افغانستان میں اربکی مقامی قبائلی یا نیم سرکاری مسلح دستوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے اور تاریخ میں مختلف افغان حکومتوں اور مقامی طاقتوں کے ساتھ اس نوعیت کے دستے موجود رہے ہیں؛ اس لیے موجودہ افغان الزام کو ’’پاکستانی اربکیان‘‘ کے طور پر حتمی حقیقت نہیں بلکہ افغان فریق کا الزام ہی قرار دینا چاہیے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو تابع بنانے کے بجائے برابری کی بنیاد پر جامع پاک افغان معاہدۂ تعاون کی طرف بڑھیں۔ پاکستان اگر افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک سڑک، ریلوے اور تجارتی رسائی چاہتا ہے تو افغانستان کو بھی پاکستان کے راستے بھارت اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک قابلِ اعتماد زمینی تجارتی رسائی ملنی چاہیے۔ اسی طرح افغانستان اگر اپنی خارجہ پالیسی میں آزادی چاہتا ہے تو پاکستان کو بھی اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق پالیسی بنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے؛ اصل حل یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی خودمختاری، عدم مداخلت اور باہمی سلامتی کی ضمانت دیں۔ پاکستان کی 2023 مردم شماری کے مطابق پشتو ملک کی دوسری بڑی مادری زبان ہے اور تقریباً 18 فیصد آبادی نے پشتو کو مادری زبان قرار دیا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب صدیوں سے آباد خاندانوں اور قبائل کے تاریخی، معاشرتی اور تجارتی رشتوں کو نظرانداز کرکے محض سخت سرحدی پابندیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس لیے یورپی ممالک کے باہمی سرحدی انتظامات سے اصولی رہنمائی لیتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کو سرحدی اضلاع کے حقیقی باشندوں کے لیے خصوصی پاک افغان راہداری نظام بنانا چاہیے، جس میں بائیومیٹرک شناخت، خصوصی سرحدی کارڈ، مقررہ کراسنگ پوائنٹس اور مشترکہ نگرانی کے ذریعے سلامتی بھی برقرار رہے اور خاندانی و قبائلی آمدورفت بھی آسان ہو۔ ساتھ ہی افغان ٹرانزٹ تجارت میں اسمگلنگ روکنے، پاکستانی صنعت کو تحفظ دینے اور افغان تاجروں کے جائز تجارتی حقوق برقرار رکھنے کے لیے جدید ڈیجیٹل کسٹمز اور مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ پانی کے معاملات کے لیے مشترکہ تکنیکی کمیشن اور سرحدی تنازع کے لیے سیاسی و قانونی مذاکرات کا مستقل فورم بنایا جائے، تاکہ ہر بحران دوبارہ عسکری کشیدگی میں تبدیل نہ ہو
پاکستان اور افغانستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آئندہ بھی ایک دوسرے کو سکیورٹی خطرہ سمجھ کر سرحد بند کرتے، الزامات عائد کرتے اور جوابی کارروائیاں کرتے رہیں گے یا اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو مشترکہ معاشی طاقت میں تبدیل کریں گے۔ افغانستان وسطی ایشیا، چین، ایران اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم زمینی رابطہ بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی بندرگاہیں افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو سمندر تک رسائی فراہم کرسکتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کو وسطی ایشیا تک رسائی اور افغانستان کو بھارت تک تجارتی رسائی ایک دوسرے کے خلاف مطالبات نہیں بلکہ باہمی مفاد کا حصہ بننے چاہئیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کو مخالف مسلح سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا قابلِ تصدیق معاہدہ کریں، ماضی کی مداخلتوں اور غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بداعتمادی کو تسلیم کریں اور ڈیورنڈ لائن کے مسئلے کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے دونوں جانب کے قبائلی عمائدین، ماہرین اور نمائندہ حلقوں کو مشاورتی عمل میں شامل کریں۔ ابتدائی معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہو، لیکن بعد کے مرحلے میں چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں، سعودی عرب، بھارت اور دیگر متعلقہ ممالک کو تجارت، توانائی، ریلوے، معدنیات اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں میں شامل ہونے کا راستہ کھلا رکھا جائے۔ یورپی یونین کی مکمل نقل ممکن نہیں، مگر اس کے بنیادی اصول یعنی مشترکہ اقتصادی مفاد، ادارہ جاتی مذاکرات، باہمی تجارت اور عوامی رابطوں کے ذریعے تاریخی تنازعات کی شدت کم کرنا پاکستان اور افغانستان کے لیے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ اگر دونوں ریاستیں برابری، خودمختاری، عدم مداخلت اور باہمی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھیں تو وہی سرحد جو کئی دہائیوں سے کشیدگی کی علامت بنی ہوئی ہے، مستقبل میں تجارت، روزگار، امن اور علاقائی خوشحالی کا راستہ بن سکتی ہے۔
