اداریہ ۲ اکتوبر ۲۰۲۶

مذاکرات ہی حرفِ آخر: سیاسی کشیدگی کا راستہ مفاہمت سے نکلے گا.

پاکستان کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، تحریکِ انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ، خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور مختلف آئینی و سیاسی تنازعات کے پس منظر میں بالآخر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کیا اور غیر جانب دار مقام پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی، تاہم تحریکِ انصاف نے مذاکرات کا راستہ ترک کرنے کے بجائے اپنا چھ رکنی وفد تشکیل دے کر بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ یوں عملی طور پر مذاکرات کا دائرہ حکومت بمقابلہ اپوزیشن کے بجائے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے درمیان سیاسی مکالمے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں جانب سے سخت مؤقف سامنے آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ حکومتی وفد نے لانگ مارچ، اسلام آباد کی طرف پیش قدمی، دھمکیوں اور امن و امان کے معاملات پر اپنے تحفظات پیش کیے، جبکہ اپوزیشن نے بانی تحریکِ انصاف سے ملاقات، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، عدالتی معاملات اور اپنے سیاسی مطالبات کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ بعض معاملات پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، مگر اہم بات یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور فریقین نے اگلے دور کے لیے دوبارہ بیٹھنے پر اتفاق کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی واضح کیا کہ وہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں اور پارلیمان ہی وہ فورم ہے جہاں سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہی طرزِ عمل سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایسے قابلِ قبول راستے تلاش کرنا ہونا چاہیے جن سے سیاسی درجہ حرارت کم ہو، احتجاج کا حق بھی برقرار رہے اور ریاستی اداروں، عوام اور معیشت کو مزید کشیدگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

دوسری طرف ملک کے عسکری و سکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ پُرتشدد انتشار اور 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس مؤقف کو سیاسی جماعتوں کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا سکتا ہے کہ احتجاج اور سیاسی اختلاف کو آئینی و پُرامن حدود میں رکھا جائے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے دہشت گردی، خصوصاً خیبر پختونخوا کی صورتحال کو سیاسی گفتگو سے جوڑنے پر اپوزیشن نے اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کا بنیادی موضوع سیاسی تنازعات ہیں۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے میز پر بیٹھے ہیں، اور یہی پیش رفت موجودہ بحران میں سب سے قیمتی پہلو ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، داخلی امن اور معاشی تسلسل تینوں کی ضرورت ہے؛ اس لیے کسی بھی فریق کی طرف سے ایسا قدم جو تصادم کو مزید بڑھائے، مسائل کو حل کرنے کے بجائے پیچیدہ کرے گا۔

محمود خان اچکزئی کا غیر جانب دار مقام پر مذاکرات کا مطالبہ ہو یا تحریکِ انصاف کا اپنی الگ مذاکراتی ٹیم کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ، پیپلز پارٹی کا سخت مؤقف ہو یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ—یہ سب سیاسی اختلافات کا حصہ ہیں۔ اختلافات جتنے بھی شدید ہوں، ان کا علاج سیاسی عمل ہی سے ممکن ہے۔ مذاکرات میں حکومت کو بھی اپنی طاقت کے اظہار کے بجائے سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپوزیشن کو بھی سڑک کی طاقت کے بجائے پارلیمانی و آئینی راستے کو ترجیح دینا ہوگی۔ کسی بھی فریق کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ مذاکرات میں بیٹھنا کمزوری ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی قوت کا اصل امتحان اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات کو کسی ایک لانگ مارچ، کسی ایک شخصیت کی رہائی، کسی ایک عدالتی فیصلے یا کسی ایک جماعت کے فوری مطالبے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ملک کے وسیع تر سیاسی مسائل پر سنجیدہ اور مسلسل مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ انتخابات، پارلیمانی بالادستی، عدالتی معاملات، سیاسی کارکنوں کے حقوق، پُرامن احتجاج، وفاق اور صوبوں کے تعلقات، دہشت گردی اور داخلی سلامتی جیسے معاملات پر اختلافات موجود ہیں تو انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ فریقین کو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ مذاکرات کے دوران دھمکی، الزام تراشی اور سڑکوں پر تصادم کے بجائے دلیل، آئین اور پارلیمان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔

پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ سیاسی بحران طاقت کے ذریعے وقتی طور پر دبائے جا سکتے ہیں، مستقل طور پر حل نہیں کیے جا سکتے۔ مستقل حل صرف سیاسی اتفاقِ رائے، آئینی اداروں کے احترام اور مسلسل مذاکرات سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ مذاکرات کو محض ایک وقتی رابطہ یا لانگ مارچ روکنے کی کوشش سمجھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی عمل کا آغاز بنایا جانا چاہیے۔ مذاکرات آج کامیاب ہوں یا ناکام، کل دوبارہ مذاکرات کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی؛ اس لیے مذاکرات جاری رکھنا ہی حرفِ آخر ہونا چاہیے۔ یہی راستہ سیاسی اختلاف کو قومی تصادم بننے سے روک سکتا ہے اور یہی راستہ پاکستان کو سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور قومی یکجہتی کی طرف لے جا سکتا ہے۔