مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری امت مسلمہ کے ایمان، عقیدت اور روحانی وابستگی کے مراکز ہیں۔ ان مقدس مقامات کی طرف اٹھنے والا کوئی بھی خطرہ صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس اور تشویش ناک معاملہ ہے۔ حالیہ دنوں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کو درپیش حملوں اور خطرات نے عالم اسلام میں شدید اضطراب پیدا کیا ہے۔ ایسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مقدس مقامات کے تحفظ کو محض مذمت اور بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ایسی مضبوط اور قابلِ اعتماد دفاعی بازدار قوت قائم کی جائے جس سے آئندہ کسی بھی فریق کو حرمین شریفین یا سعودی عرب کی شہری تنصیبات کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کا تصور بھی نہ آئے۔
یہ امر اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا۔ پاکستان نے اس معاہدے کو واضح طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی بازدار قوت اور تینوں ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع ہے۔
اب 5 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس نے اس معاہدے کو عملی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری عملدرآمد، متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں ان کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور سعودی عرب کے شہروں، شہری و معاشی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت بھی کی گئی۔
اب اس دفاعی تعاون کو عملی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان ایک ایسا مستقل نظام ہونا چاہیے جس میں ہنگامی صورتحال میں فوری رابطے اور فیصلہ سازی کا طریقۂ کار پہلے سے طے ہو، ضرورت پڑنے پر متفقہ فوجی دستوں کی تیز رفتار تعیناتی ممکن ہو، فضائی اور میزائل دفاع کے نظام میں باہمی تعاون بڑھایا جائے، ڈرون اور میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ صلاحیتیں پیدا کی جائیں، حساس شہری و معاشی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی جائے اور انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح مشترکہ فوجی مشقیں، تربیت، دفاعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں تعاون بھی اس اتحاد کو محض ایک معاہدے کے بجائے مؤثر اجتماعی دفاعی نظام میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اگست کے اجلاس کے بعد تینوں ممالک نے دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار کے ذریعے دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے خصوصی طور پر یہ ضروری ہے کہ جدید نگرانی، فضائی دفاع، ڈرون مخالف صلاحیت اور ہنگامی ردعمل کے مربوط انتظامات کو مضبوط کیا جائے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حساسیت اس بات کی متقاضی ہے کہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی اور اسے روکنے کے لیے دفاعی نظام ہر وقت تیار رہے۔ یہ تیاری کسی فریق کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے نہیں بلکہ ایسی معتبر بازدار قوت قائم کرنے کے لیے ہونی چاہیے جو جارحیت کے امکان ہی کو کم کر دے۔
حوثیوں یا کسی بھی دوسرے فریق کو یہ واضح پیغام ملنا چاہیے کہ حرمین شریفین کی سلامتی کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر آزمائش کی گنجائش ہو۔ اگر کسی جانب سے مقدس مقامات، سعودی شہریوں، شہری تنصیبات یا علاقائی سالمیت کے خلاف حملہ یا دھمکی دی جاتی ہے تو اس کا جواب مؤثر، متناسب اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے، ایسا جواب جو آئندہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کر سکے۔ مقصد جنگ کو پھیلانا نہیں بلکہ جنگ کی جرأت ختم کرنا ہونا چاہیے۔ مضبوط دفاعی تیاری، مشترکہ عسکری صلاحیت اور واضح اجتماعی ردعمل ہی وہ بازدار قوت ہے جو کسی بھی فریق کو مستقبل میں ایسی حرکت سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے عملی تعاون کا عزم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ اجتماعی سلامتی صرف بیانات سے نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری اور عملی تیاری سے قائم ہوتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون موجود ہے، جبکہ ترکیہ بھی دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون رکھتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اسی موجودہ تعاون کو ایک باقاعدہ اجتماعی دفاعی فریم ورک میں مزید منظم کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں تربیت، استعداد کار، بہترین عملی تجربات کے تبادلے، دفاعی ٹیکنالوجی اور تحقیق سمیت مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
تاہم اس اتحاد کی طاقت کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ دفاعی قوت کے ساتھ سفارت کاری، تحمل اور علاقائی امن کی کوششیں بھی جاری رہیں۔ پاکستان نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کے ساتھ اجتماعی بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تینوں ممالک ایک طرف اپنی دفاعی صلاحیت کو اس حد تک مضبوط بنائیں کہ جارحیت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور دوسری طرف سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے اور خطے کو وسیع جنگ سے بچانے کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایک مؤثر، مربوط اور قابلِ اعتماد اجتماعی دفاعی نظام کی شکل اختیار کرے۔ ایسا نظام جو سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنائے اور کسی بھی ممکنہ حملہ آور کو یہ واضح احساس دلائے کہ اس کے سامنے صرف ایک ملک نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی عزم کے ساتھ کھڑے تین ممالک ہیں۔ حوثیوں سمیت ہر ایسے فریق کو قانون کے دائرے میں ایسا واضح اور فیصلہ کن دفاعی جواب ملنا چاہیے کہ آئندہ حرمین شریفین، سعودی عرب یا اس کی شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی جرأت کا تصور بھی نہ کیا جا سکے۔ یہی اجتماعی دفاع کی روح، یہی مؤثر بازدار قوت کا مقصد اور یہی اس وقت عالم اسلام کے لیے اطمینان کا سب سے اہم پہلو ہے۔
