اداریہ ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

قومی شناختوں کا احترام، پاکستان کے اتحاد کی بنیاد

پاکستان مختلف قوموں، زبانوں، ثقافتوں اور تاریخی شناختوں کا مشترکہ وطن ہے۔ اس حقیقت سے انکار کے بجائے اسے ریاستی وحدت کی بنیاد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مختلف قوموں کی شناخت ختم کرکے سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھال دیا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی بلتی اور دیگر قومیتوں کو ان کی شناخت، زبان، ثقافت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ایک مشترک قومی اور ریاستی سوچ پر کیسے متحد کیا جائے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف شناختوں کو ایک یکساں شناخت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، مگر اس طرزِ فکر نے کئی مواقع پر ہم آہنگی کے بجائے فاصلے اور بے اعتمادی پیدا کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مختلف قوموں کے معاشی، سیاسی، ثقافتی اور علاقائی مفادات ہر معاملے میں یکساں نہیں ہوسکتے۔ بعض اوقات ایک قوم کا مفاد دوسری قوم کے مفاد سے مختلف، حتیٰ کہ متصادم بھی ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ملک کو تقسیم کرنے کی سوچ نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ سیاسی اور وفاقی سوچ ہے۔ پائیدار اتحاد اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب ریاست تمام قومیتوں کو یہ اعتماد دے کہ ان کی شناخت، زبان، ثقافت، وسائل اور سیاسی و معاشی حقوق محفوظ ہیں۔ اتحاد کسی شناخت کو مٹانے سے نہیں بلکہ باہمی احترام، انصاف اور مساوی حقوق سے پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے راستہ “ایک شناخت، ایک قوم” مسلط کرنے کے بجائے “متعدد شناختیں، مشترک ریاست اور مشترک مفادات” کا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے صوبائی خودمختاری کو حقیقی معنوں میں نافذ، وسائل کی تقسیم کو شفاف اور منصفانہ، مادری زبانوں کو تعلیم و ثقافت میں مناسب مقام، اور تمام قومیتوں کو ریاستی اداروں میں مساوی نمائندگی دینا ضروری ہے۔ قومی سطح پر مستقل بین القومیتی مکالمے کا ایسا فورم بھی ہونا چاہیے جہاں سیاسی، علمی اور سماجی نمائندے اپنے اختلافات طاقت کے بجائے گفت و شنید سے حل کریں۔ نصاب میں پاکستان کی تمام قوموں کی تاریخ، جدوجہد اور ثقافت کو مناسب جگہ دی جائے تاکہ قومی شعور یک رنگ نہیں بلکہ وسیع البنیاد ہو۔ سب سے بڑھ کر وفاداری کا معیار کسی کی زبان، نسل یا ثقافتی شناخت نہیں بلکہ آئین، قانون اور مشترک ریاستی اصول ہونے چاہئیں۔ جب ہر قوم کو اپنی شناخت کے تحفظ اور اپنے حقوق کے بارے میں اطمینان ہوگا تو وہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک مشترک پاکستان کا حصہ بننے میں زیادہ اعتماد محسوس کرے گی۔ پاکستان کی مضبوطی **شناختوں کے خاتمے میں نہیں بلکہ شناختوں کے احترام، حقوق کے تحفظ اور مشترک مفادات کے فروغ میں ہے۔