واشنگٹن (ویب نیوز) امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے ایرانی کسٹمز کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ چینی سپلائرز نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ایرانی وزارت دفاع اور دفاعی اداروں کو ڈرون اور میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات اور پرزوں کی تقریباً 1300 کھیپیں فراہم کیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 تک ایران کو جی پی ایس آلات، برقی موٹرز، طیاروں کے انجن کے پرزے اور دیگر سامان موصول ہوا، جبکہ فروری میں جنگ شروع ہونے سے قبل چین کی جانب سے 300 ٹن کیمیائی مرکبات فراہم کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جو بیلسٹک میزائلوں کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ سمندری راستے سے رسائی مشکل ہونے کے بعد مارچ سے اپریل کے آخر تک ایرانی فضائی کمپنی مہان ایئر نے چین سے تہران کے لیے ہفتہ وار پروازوں میں نمایاں اضافہ کیا، جن میں بعض پروازیں مسافروں کے لیے دستیاب نہیں تھیں اور ممکنہ طور پر کارگو ترسیل کے لیے استعمال ہوئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ ماضی میں چین اور روس پر ایران کی مدد کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ نے بعد میں کہا تھا کہ شی جن پنگ نے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ امریکا کے دورے پر ہیں اور ٹرمپ سے ملاقات میں تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور دیگر معاملات کے ساتھ ایران سے متعلق امور بھی زیر بحث آنے کی توقع کی جارہی ہے۔
