کوئٹہ (ویب نیوز) سیاسی ماہرِ اقتصادیات ایس اکبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت پھنس گئی ہے اور ترقی نہیں کر رہی، حکومت کے پاس آگے بڑھنے کے لیے کوئی جامع معاشی پالیسی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار بار آئی ایم ایف پروگرامز میں جا رہا ہے اور یہ 24واں پروگرام ہے، جبکہ آئی ایم ایف اپنی شرائط پر قرض فراہم کرتا ہے اور حکومت اس کی شرائط پر زیادہ عمل درآمد کر رہی ہے۔ ایس اکبر زیدی کے مطابق حکومت نے بنیادی معاشی اصلاحات متعارف نہیں کرائیں، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرکے زیادہ آمدنی رکھنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور زرعی آمدنی پر مؤثر ٹیکس عائد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیشتر آمدنی قرضوں کی واپسی میں خرچ ہو رہی ہے اور موجودہ قرض بڑی حد تک سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے باعث صوبوں کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، جبکہ سرکلر ڈیٹ اور بجلی کی بڑھتی قیمتیں سنگین مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لوگ سولر کی جانب منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان میں سولرائزیشن تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایس اکبر زیدی نے زور دیا کہ ملک کو ایسی جامع حکمت عملی بنانا ہوگی جس کے ذریعے آئی ایم ایف پر انحصار کم یا ختم کیا جاسکے، تاہم یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
