تازہ ترین ۷ ستمبر ۲۰۲۶

کوئٹہ کے ترقیاتی منصوبے؛ ہائی کورٹ کی سریاب سروس روڈ اور بارش کے پانی کی نکاسی کے کاموں سے متعلق ہدایات

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سریاب سروس روڈ اور بارش کے پانی کی نکاسی کے نظام سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، چیف منسٹر پیکیج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے ڈائریکٹر محمد رفیق، اربن پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے سریاب سروس روڈ اور سیلابی پانی کی نکاسی کے نالے سے متعلق پیش رفت رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق سریاب سروس روڈ کی تکمیل کے لیے منصوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور کام مرحلہ وار جاری ہے۔ مجموعی طور پر 15 ہزار 140 میٹر سڑک میں سے 14 ہزار 500 میٹر پر اسفالٹ بیس کورس مکمل ہوچکا ہے، تاہم جہاں رکاوٹیں موجود ہیں وہاں کام باقی ہے، جبکہ 15 ہزار 140 میٹر میں سے تقریباً 6,500 میٹر پر اسفالٹ وئیرنگ کورس بھی مکمل ہوچکا ہے اور باقی کام جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پل کی تعمیر بھی مکمل کرلی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سروس روڈ کے ساتھ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈرین کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم بعض مقامات پر موجود رکاوٹوں کے باعث باقی کام متاثر ہوا ہے۔ اسی طرح کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 30 فیصد کام مکمل جبکہ باقی کام جاری ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ بعض کیبل اور کمیونیکیشن کمپنیوں کے نامعلوم افراد نے متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر نئے تعمیر شدہ سریاب سروس روڈ پر غیر مجاز کھدائیاں کیں، جس سے نہ صرف سڑک اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچا بلکہ جاری ترقیاتی کام بھی متاثر ہوئے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے 20 اگست 2026 کو ایس پی سریاب، کوئٹہ کو ارسال کردہ خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ 13 فروری 2026 کے خط کی کاپی بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔ مذکورہ خط میں متعلقہ سرکاری، نیم سرکاری اور یوٹیلیٹی اداروں کو سمنگلی روڈ یوٹیلیٹی کوریڈور سمیت سریاب اور زرغون روڈز پر یوٹیلیٹیز کی منتقلی سے متعلق ضروری ہدایات دی گئی تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں، سڑکوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بار بار، غیر ضروری اور غیر مجاز کھدائی کے ذریعے نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی نئی کھدائی یا یوٹیلیٹی کام کے آغاز سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر کو اطلاع دے کر باضابطہ اجازت حاصل کی جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جہاں یوٹیلیٹی کوریڈور موجود ہو، اسی کو استعمال کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے مقرر کردہ مقام پر کام کیا جائے تاکہ نئے تعمیر شدہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پیورز کو دوبارہ نقصان نہ پہنچے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں مناسب صورت میں توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی گئی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے غیر مجاز کھدائی یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی یقینی بنائیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ہدایت کی گئی کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کسی بھی کام کے آغاز سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کام کے لیے مناسب مقام بھی متعین کریں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی روک تھام سختی سے یقینی بنائی جائے گی۔ سماعت کے دوران عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ کی جانب سے نمبر 3504/2026 بھی جمع کرائی گئی، جس کی ایک کاپی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فراہم کی گئی، جبکہ عدالت نے انہیں درخواست کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا۔ بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ہدایات کی روشنی میں حکم جاری کرتے ہوئے عدالتی حکم کی نقول بلوچستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کو معلومات اور عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔