کوئٹہ(ویب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ایک مرکزی بیان میں کوئٹہ چمن -سیکشن پر کام کی سست رفتاری، تعمیراتی معیار اور متاثرہ اراضی کے معاوضے کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ N-25 کے کوئٹہ چمن سیکشن پر کام کی رفتار انتہائی کم ہے جبکہ متاثرہ زمین مالکان کو معاوضوں کی ادائیگی بھی تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث اس اہم اسٹریٹجک قومی شاہراہ کی بروقت تکمیل کا عمل متاثر ہو رہا ہے اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بیان میں بلوچستان کے رکن بشارت حسین ملک اور N-25 کے جنرل منیجر داؤد خان کی اپنے دفاتر اور منصوبے کے مقامات سے طویل غیر حاضری کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں افسران زیادہ وقت اسلام آباد میں گزارتے ہیں جبکہ کوئٹہ اور منصوبے کے مقامات کے دورے بھی ناکافی ہیں۔ پارٹی کے مطابق متعلقہ افسران کی فیلڈ میں عدم موجودگی کے باعث منصوبے کی پیش رفت، اراضی کے حصول اور معاوضوں کی ادائیگی، معیار کی نگرانی، ٹھیکیداروں سے متعلق امور اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کو مطلوبہ توجہ نہیں مل رہی۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے زور دیا کہ ایسے اسٹریٹجک منصوبے کی مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے لیے اعلی حکام کی باقاعدہ فیلڈ میں موجودگی ضروری ہے، جبکہ ذمہ دار افسران کی غیر حاضری ٹھیکیداروں کی کارکردگی اور اہم مسائل کے حل پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ بیان میں بعض مقامات پر کام کے معیار کے مقررہ معیار سے کم ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ مسلسل فیلڈ نگرانی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن، تکنیکی وضاحتوں اور مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں۔ پارٹی نے وفاقی وزیر مواصلات سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور مناسب انتظامی کارروائی پر غور کیا جائے، جس میں بلوچستان کے رکن اور کے متعلقہ جنرل منیجر کی تبدیلی اور نئی تعیناتی بھی شامل ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ان اہم عہدوں پر ایسے اہل اور باصلاحیت افسران تعینات کیے جائیں جو بلوچستان کے مقامی حالات سے بخوبی واقف ہوں اور اپنے مقررہ مراکز پر موجود رہنے کے لیے تیار ہوں تاکہ منصوبے کی نگرانی، کام کی رفتار، اراضی کے معاوضوں اور دیگر تاخیر کا شکار معاملات کو حل کرنے کے ساتھ تعمیراتی معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔
