مقامی ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

کوئٹہ میں کسانوں کا 6 نکاتی مطالباتی منشور، حکومت کو 15 ستمبر تک الٹی میٹم

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان کسان ایکشن کمیٹی نے زرعی پیداوار کی غیر قانونی درآمد اور اسمگلنگ کی روک تھام، کھاد کی قلت اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے، 2022 سے 2026 تک بارشوں، ژالہ باری اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو معاوضے کی ادائیگی، نئے ڈیموں کی تعمیر اور زرعی ٹیکسوں میں رعایت سمیت 6 نکاتی مطالباتی منشور پیش کرتے ہوئے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے 15 ستمبر تک الٹی میٹم دیا ہے۔ کسان ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی کی سربراہی میں قلعہ سیف اللہ میں منعقدہ کسانوں کے اجلاس اور پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اگر زرعی مسائل حل نہ کیے گئے تو اس کے اثرات صرف کسانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مزدور، ٹرانسپورٹرز، کمیشن ایجنٹس، دکاندار، صنعت اور صوبے کا مجموعی معاشی نظام بھی متاثر ہوگا اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کی مقامی فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کی منڈی میں آمد کے دوران پڑوسی ممالک سے ٹماٹر، سیب، انگور، پیاز اور دیگر زرعی اجناس کی غیر قانونی درآمد اور اسمگلنگ فوری طور پر روکی جائے اور تمام چیک پوسٹوں اور اندرونی راستوں پر مؤثر نگرانی کی جائے۔ اسی طرح کھاد کا کوٹہ بڑھانے، یوریا اور نائٹروجن کھاد کی مسلسل فراہمی، مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور کسانوں کو خصوصی رعایت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق 2022 سے 2026 تک مختلف علاقوں میں بارشوں، ژالہ باری، سیلاب اور تیز ہواؤں کے باعث فصلوں اور باغات کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا، تاہم متاثرہ کسانوں کو تاحال مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا، اس لیے شفاف سروے اور نقصانات کا ازسرِنو جائزہ لینے کے ساتھ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، خضدار، ژوب اور دیگر علاقوں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پانی کی قلت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر، موجودہ ڈیموں اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی بحالی اور زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ کسانوں نے زرعی، آمدنی اور ہولڈنگ ٹیکسوں میں رعایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موسمی آفات، مہنگی بجلی، کھاد کی قلت، پانی کے بحران اور فصلوں کی کم قیمتوں کے باعث کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے سولرائزیشن کے بعد دیہی علاقوں میں بجلی کے کھمبوں اور تاروں کی دوبارہ تنصیب اور گھریلو صارفین کو بجلی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مقررین نے کہا کہ قلعہ عبداللہ اور پشین میں ٹیوب ویل خشک ہونے کے باعث کسان نقل مکانی کے مسئلے سے دوچار ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی بحران پر فوری توجہ دی جائے۔ کمیٹی نے ٹرانسپورٹرز سے بھی اپیل کی کہ وہ غیر ملکی زرعی اجناس کی ترسیل سے گریز کریں، جبکہ حکومت، محکمہ زراعت، آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ مطالباتی منشور پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ کسان ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور اگر 15 ستمبر تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اپنے حقوق کے لیے قانونی اور آئینی فورمز پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔