




کوئٹہ (صداقت نیوز)حکومت بلوچستان نے گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین شٹل سروس کو ایک خودکش گاڑی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 14 افراد شہید جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ شہداء میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ اکثریت عام شہریوں، راہگیروں، مسافروں اور دھماکے کے مقام کے قریب گھروں کے مکینوں پر مشتمل ہے۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں والد، والدہ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے جس سے صوبے بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد کوئٹہ کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد اور علاج کی فراہمی جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر میں مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جبکہ محکمہ داخلہ بلوچستان میں خصوصی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن سیل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو سروسز اور ضلعی انتظامیہ امدادی، سیکیورٹی اور شواہد اکٹھا کرنے کے عمل میں مصروف ہیں جبکہ دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے کر فرانزک تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
