تازہ ترین ۷ ستمبر ۲۰۲۶

کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مسائل؛ ہائی کورٹ نے جامع رپورٹس طلب کرلیں

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسوں، رکشوں اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ، بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد، درخواست گزار کی وکیل محترمہ انعم خیر، میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وکیل محمد اکرم شاہ، کے ڈائریکٹر جنرل اورنگزیب کاکڑ، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن کے جنرل سیکریٹری نے عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کی، جس میں کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے فیڈر روٹس پر 27 الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی، کوئٹہ کے لیے دو الیکٹرک بسوں اور صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی، وکلا کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم، سریاب روڈ پر لوکل بس اڈے کے لیے زمین کی منتقلی، کوئٹہ۔کچلاک روٹ کے لیے کوسٹرز کے اجازت نامے، غیر قانونی اور مقررہ تعداد سے زائد رکشوں کے خلاف کارروائی اور 9,451 موٹر رکشوں کے پرمٹ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق پیش رفت شامل تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پیش رفت رپورٹ کی ایک کاپی درخواست گزار کے وکیل کو بھی فراہم کردی گئی ہے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطاء اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ عدالت کی سابقہ ہدایات کے باوجود کوئٹہ میں مرکزی اور فیڈر روٹس پر اب بھی لوکل بسیں چل رہی ہیں جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، پشین اور خضدار کے وکلا کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے تحت دو ڈیزل بسیں، دو پنک وینز، دو الیکٹرک شٹل کارٹس اور 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز مختص کی گئی ہیں، تاہم اس منصوبے پر تاحال خاطر خواہ عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عدالت کے سوال پر بتایا گیا کہ خواتین وکلا کے لیے مختص 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز ہیلمٹس سمیت موصول ہوچکی ہیں، تاہم وکلا کے لیے دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کے حوالے سے عملی اقدامات ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سریاب روڈ پر سابقہ ایکسٹرائی گودام کی جگہ لوکل بس اڈے کے لیے مختص زمین تاحال کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور سیکریٹری کو منتقل نہیں کی گئی، جس کے باعث منصوبے پر عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد نے عدالت کے سوال پر بتایا کہ کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ رواں مالی سال کے میں شامل کیا گیا تھا اور ابتدا میں اس کے لیے ایک ارب 235.300 ملین روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم عدالت کے مشاہدات کے بعد منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو منتقل کردیا گیا اور نظرثانی کے بعد اس کی لاگت 595.720 ملین روپے مقرر کی گئی ہے، جو حتمی فیصلے کے لیے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں زیر غور ہے۔ درخواست گزار بھی خود عدالت میں پیش ہوئے اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود کوئٹہ شہر اور گردونواح کی ٹریفک صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور متعلقہ سرکاری ادارے عملی اقدامات کے بجائے صرف رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ عدالت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری کے دستخط شدہ جامع رپورٹس آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں، جن میں لوکل بس اڈے کے لیے مختص زمین کی منتقلی کی موجودہ صورتحال، کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کے منصوبے کی موجودہ پیش رفت اور وکلا کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کی منظوری و عملی پیش رفت کی تفصیلات شامل ہوں۔ عدالت نے سیکریٹری کو کوئٹہ شہر میں پرانی اور ناکارہ بسوں کے چلنے سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 8 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔ عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔