مقامی ۲۹ اگست ۲۰۲۶

کوئٹہ میں غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی، 63 پمپ سیل، 72 افراد گرفتار

کوئٹہ (ویب نیوزڈ) کوئٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر مہراللہ بادینی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 63 پمپ سیل اور 72 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا۔ کارروائیاں پشتون آباد، جوائنٹ روڈ، سرکی روڈ، فقیر محمد روڈ، میہنگی روڈ، کاسی روڈ، عالمو چوک، ایئرپورٹ روڈ، نوحصار گاؤں، سمنگلی اور خروٹ آباد سمیت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ یہ کارروائیاں سٹی اسسٹنٹ کمشنر محمد امیر حمزہ، صدر اسسٹنٹ کمشنر محمد یوسف ہاشمی، کچلاک اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن (ر) کبیر مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ٹیموں نے انجام دیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حالیہ پشین اسٹاپ واقعے کے بعد رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ اور آتشزدگی کے خطرات کے پیش نظر رہائشی علاقوں میں غیر قانونی منی پٹرول پمپس کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں بلا تاخیر جاری رکھی جائیں اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب منی پٹرول پمپ مالکان نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس سے متعلق تھانوں میں تبادلوں کے عمل میں تیزی آنے کے ساتھ ہی ایک یا دو روز میں تمام پمپ دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔