کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل نیوز )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں خودساختہ مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے، جہاں دکانداروں کی جانب سے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں من مانا اضافہ جاری ہے۔ دودھ، آٹا، گوشت، روٹی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے شہریوں کے مطابق کوئٹہ میں دودھ کی قیمت میں ازخود 20 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد دودھ عام صارفین کی پہنچ سے مزید دور ہوگیا ہے جبکہ ضعیفی کلو 250 سے 260 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے دودھ ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث یہ ضرورت بھی ایک بوجھ بنتی جارہی ہے خبر رساں ادارے یو این اے کے خصوصی سروے رپوٹ کے مطابق کوئٹہ شہر میں روٹی کے وزن میں بھی نمایاں کمی کردی گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ 40 روپے میں فروخت ہونے والی روٹی نہ صرف وزن میں کم ہے بلکہ معیار کے لحاظ سے بھی انتہائی ناقص اور پتلی یعنی پاپڑ نما روٹی بن چکی ہے۔ عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ نانبائی سرکاری نرخنامے اور وزن کی مکمل خلاف ورزی کررہے ہیں مگر ان کے خلاف مثر کارروائی نہیں ہورہی۔ڈبل روٹی کی فروخت میں بھی صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق پابندیوں اور واضح ہدایات کے باوجود بعض دکاندار صارفین کو ڈبل روٹی کے نام پر کم وزن سنگل پراڈکٹ فروخت کررہے ہیں، جبکہ اس کی قیمت 80 روپے تک وصول کی جارہی ہے۔ شہریوں نے اس عمل کو کھلی دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہیگ وشت کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹا گوشت 2700 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے جبکہ بڑا گوشت 1800 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھا، تاہم حالیہ اضافے کے بعد متوسط طبقہ بھی اسے خریدنے سے قاصر ہوتا جارہا ہے یو این اے کو مطابق آٹے کی قیمتوں میں بھی ایک ہی روز میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ شہریوں کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا جو چند روز قبل 2200 روپے میں فروخت ہورہا تھا، اب 2500 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یوں صرف ایک دن میں آٹے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ کردیا گیا، جس نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے۔ پیر کے روز کوئٹہ کے مختلف بازاروں اور دکانوں پر 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں شہریوں اور سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں مارکیٹ مافیا نے حکومتی رٹ کو کھلا چیلنج دے رکھا ہے اور من مانی قیمتوں کے ذریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اگرچہ کاغذی طور پر متحرک دکھائی دیتے ہیں، مگر عملی طور پر بازاروں میں صورتحال مکمل طور پر بے قابو ہوچکی ہے عوام نے حکومت بلوچستان، کمشنر کوئٹہ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ مافیا، ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ، آٹا، گوشت، روٹی اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں کے ساتھ دکانیں سیل کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا ۔
