کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی نائب امیر اور کوئٹہ کے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، اطلاعات سیکرٹری عبدالغنی شہزاد اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ کی گلیوں اور سڑکوں پر قاتل اور راہزن آزادانہ گھوم رہے ہیں اور شہریوں کے جان و مال محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بے گناہ شہریوں، سرانان میں بے بس مزدوروں اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں عام لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل واقعات حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق قتل اور بدامنی کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی رٹ عملی طور پر کمزور ہو چکی ہے اور حکومت و انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کے باوجود مؤثر اقدامات نہ کرنا اور حکام کی خاموشی عوام کی تشویش میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے کہا کہ متعدد چیک پوسٹوں اور سخت سکیورٹی اقدامات کے دعووں کے باوجود اگر قاتل آزادانہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو یہ حکومت کی سکیورٹی پالیسی اور انتظامی کارکردگی پر سنجیدہ سوال ہے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ، سرانان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے، قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
